بنگلورو۔21؍اگست(ایس او نیوز) وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ریاست میں صنعتوں کے فروغ کے لئے ہر طرح کے اقدامات کرتے ہوئے وسائل اکٹھاکرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے راستہ ہموار کرنا حکومت کا اہم مقصد ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے صنعتوں کی ترقی کے لئے5سب کمیٹیوں کو تشکیل دینے کا بھی مشورہ دیا۔ صنعتی وژن گروپ کی زیر نگرانی ریاستی سطح کے بنیادی سہولیات، بنگلور سطح پر بنیادی سہولیات ، آٹو موبائلس، فلائی شعبہ سمیت شعبہ پیداوار ، ٹکسٹائلس اینڈ گارمنٹس شعبہ ، الیکٹرانکس اور ای کامرس شعبہ کے تعلق سے سب کمیٹیاں تشکیل دینے کی وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے۔ ودھان سودھا میں صنعتی وژن گروپ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ صنعتی وژن گروپ کے ایک رکن مذکورہ محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹرس کے ساتھ ماہرین صنعت کاروں کو سب کمیٹیوں میں شامل کرکے وقتاً فوقتاً حکومت کو اپنے پراجکٹوں کے متعلق مشورہ دینے کی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت صنعتوں کی ترقی کے اپنے وعدہ پر قائم ہے۔ ریاستی عوام کو معاشی واقتصادی طورپر مضبوط کرنے کے لئے صنعتی وژن گروپ اپنی بہترین خدمات انجام دینے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ سب کمیٹیاں صنعتی شعبہ کے فروغ کے لئے درکار سہولتیں کے متعلق حکومت کو اپنی تجاویز اور مشورہ دیتے رہیں تاکہ حکومت بروقت اس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے روزگار کے مواقع فراہم کرسکیں ۔شہر بنگلور کے علاوہ دوسرے اور تیسرے درجہ کے شہروں میں بھی صنعتوں کی فروغ کے لئے منصوبہ تیار کئے گئے ہیں ان شہروں میں بھی صنعتوں کو ترقی دے کر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ریاستی حکومت ضروری اقدامات کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت صنعتی شعبہ میں نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے دلوں کو بھی جیت رکھی ہے۔ جاریہ سال فروری میں ہوئے عالمی سرمایہ کاری کنونشن کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی ہی اس کا سب سے بڑا ثبوت رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلور شہر میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے بہت بڑا مسئلہ اور چیلنج بنا ہوا ہے۔ ریاستی حکومت ہزاروں کروڑروپئے خرچ کرتی آرہی ہے۔ برانڈ بنگلور تعمیر کے لئے 2013-14کے دوران 5606 کرورڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے مقصدسے جاریہ سال بجٹ میں5ہزار کرورڑ روپئے اپنے وزیراعلیٰ خصوصی پیکیج کے تحت مختص کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں ہی کرناٹک ترقی پسند ریاست کے طورپر اپنا مقام حاصل کرچکا ہے۔ اس کے لئے صنعتی شعبہ کابھی اہم کردار رہاہے۔ حکومت صنعتی شعبہ کے لئے درکار ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کے اپنے وعدہ پر اٹل ہے اور کرتی آرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انفراسٹراکچر صنعتی شعبہ کی ترقی کے لئے ریڑ کی ہڈی کے مانند ہواکرتا ہے۔ اس لئے حکومت انفراسٹراکچر کو اولین ترجیح دے گی۔ اور ریاست کے دوسرے اور تیسرے درجہ کے شہروں میں بھی بنیادی سہولیات اورانفراسٹرکچر فراہم کرتے ہوئے یہاں صنعتوں کو فروغ دے گی۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر برائے صنعت آر وی دیش پانڈے نے کہا کہ ریاستی حکومت 2014-19تک صنعتی پالیسی مرتب کی ہے۔ 5لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے15لاکھ افراد کو روزگار سے جوڑنے کا نشانہ مقرر کیاگیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک کے لئے خصوصی این آر آئی پالیسی مرتب کی جائے گی۔3؍نومبر کو شہر میں این آر آئی کانفرنس انعقاد کی جارہی ہے۔ جس میں دو ہزار سے زائد این آر آئی صنعت کار شرکت کرنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ23؍ اگست کو شہر میں سرمایہ کاروں کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد کیاجائے گا۔ اجلاس میں شرکت کئے صنعت کاروں نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ای کامرس کے متعلق نئی پالیسی مرتب کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر میں انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ سہولت فروغ کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ صنعت کاری کی اس تجویز پر وزیراعلیٰ سدارامیا نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس سلسلہ میں تبادلہ خیال کرکے قطعی فیصلہ کریں گے۔اجلاس میں وژن گروپ کے رکن مہروز خان،کرن مزمدار سمیت کئی صنعت کاراور مختلف محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹرزواعلیٰ افسران موجود تھے۔